غیر قانونی برطرفی؟ صرف نوکری نہیں، پوری تنخواہ اور تمام مراعات بھی ملیں گی!

سپریم کورٹِ پاکستان نے Tahir Kazmi v. Inspector General of Police کیس میں ایک اہم قانونی اصول واضح کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر کسی سرکاری ملازم کی برطرفی، جبری ریٹائرمنٹ یا ملازمت سے علیحدگی غیر قانونی قرار پائے، تو محض اسے دوبارہ ملازمت پر بحال کرنا کافی نہیں ہوگا۔

عدالت نے “Constructive Continuity” کے اصول کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایسی غیر قانونی برطرفی کو قانون کی نظر میں ابتدا ہی سے بے اثر تصور کیا جائے گا، گویا ملازم پوری مدت کے دوران مسلسل ملازمت میں رہا۔ اس لیے وہ اپنی بقایا تنخواہ (Back Benefits)، الاؤنسز، سروس مراعات، سینارٹی اور دیگر تمام مالی و سروس حقوق کا بھی مستحق ہوگا۔

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ انصاف صرف ملازمت واپس دلانے کا نام نہیں، بلکہ ملازم کی عزت، سروس اسٹیٹس اور معاشی حقوق کی مکمل بحالی بھی انصاف کا لازمی تقاضا ہے۔ لہٰذا اگر کسی سرکاری ملازم کو غیر قانونی طور پر ملازمت سے نکالا گیا ہو، تو قانون اسے مکمل مالی اور سروس فوائد فراہم کرنے کا حق دیتا ہے۔

Need a consultant?